ڈرائیور کو جگا کر رکھنے والا چشمہ ایجاد

 پاکستانی  قوم میں ٹیلینٹ کی کوئی کمی نہیں۔زندگی کا کوئی بھی میدان ہو ہر جگہ صف اول میں نظر آتے ہیں۔ریجنل لیول ہو یا

 انٹرنیشنل لیول کا مقابلہ کامیاب و کامران نظر آتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی قوم کاتحقیق و جستجو کی کمی کی وجہ

 سے نت نئی ایجادات میں نام نظر نہیں آرہا۔آج سے چار پانچ صدیاں پیشترمسلمان سائنسدانوں کا نام دنیا میں گونجتا تھا۔

فرسودہ سلیبس ،روایتی ٹیچنگ سٹائل  اورجدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونا اس کی بڑی وجوہات ہیں۔اقوام عالم میں     

 ملک و قوم کانام اجاگر کرنے کے لیےہمیں سلیبس کو اپڈیٹ کرنا ہو گا،روایتی طریقوں  کو چھوڑ کرنئے ٹیچنگ سٹائل کو اپنانا

 ہوگااور جدید دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملانا ہو گا پھر ہی ہم اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔اقبال نے کیا خوب کہا تھا۔

تھے تو آباء وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو

ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ میں واقع ایک چھوٹے سے گاؤں  فدا حسین ڈیروکی ایک ہونہا ر طالبہ بسمہ سولنگی نے

 ایک نت نئی ایجاد سے دنیا کو ورطہء حیرت میں ڈال دیا۔بہت سے حادثات کی وجہ ڈرائیور حضرات کی نیند ہے۔جس سے بچنے 

 کے لیےبسمہ نے ایک ایسا چشمہ ایجا د کیا ہے جو گاڑی کے ڈرائیور کو جونہی نیند آئے گی وہ جگا دے گا ۔اس طرح حادثات میں

 کمی واقع ہو گی۔

بسمہ سولنگی   کی عمر 13 سال ہے اور وہ کراچی کے ایور گرین سیکنڈری سکول میں زیر تعلیم ہے۔اس حیران کن ایجاد پر امریکہ

 کے خلائی تحقیق کے ادارے ناسا نے بسمہ کی ستائش کی ہے اور ان کو امریکہ مدعو کیا ہے۔ایسی ہونہار طالبہ پہ پوری پاکستانی قوم

 کو فخر ہے جس نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ 

Comments

Popular posts from this blog

Pleasures of Reading

فیس بک فراڈ سے بچیں

29 Amazing Historical Facts about Afghanistan